جھیلتے ہوئے عشق کی سزاؤں کو
Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahoreجھیلتے ہوئے عشق کی سزاؤں کو
پیغام دیتی ہوں میں ہواؤں کو
لگ جاؤ میرے دِلنشیں کوجا کے
روز بھیجتی ہوں میں دُعاؤں کو
اُسے قصہ دردِ دل سنانا ہمارا
سلام کرنا اُس کی اداؤں کو
گلے شکوے دل سے نکال دو سبھی
معاف کردو تم میری خطاؤں کو
تم آج بھی یاد ہو اُسی طرح
دل کے دھڑکنے کی صداؤں کو
جینے کی اُمید بناتے ہیں ہم
کبھی دُعاؤں کو‘ کبھی دواؤں کو
شوق سے دیکھنا جلوے محبت کے
منہ زور عشق کی بلاؤں کو
ہتھیار پھینک نہ دینا زمانے آگے
بھول نہ جانا کہیں وفاؤں کو
زمانہ کیا دیکھے گا غم ہمارا
خُدا دیکھتا ہے غم آشناؤں کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






