جہاں میں اُس کے سِوا انتظار کس کا ہے
Poet: محمد مسعوؔد انور By: محمد مسعوؔد انور, اسلام آبادجہاں میں اُس کے سِوا انتظار کس کا ہے
اُسی نے چھوڑ دیا اعتبار کس کا ہے
یوں مضطرب تجھے پہلے کبھی نہیں دیکھا
یہ انتظار دلِ بے قرار کس کا ہے
جو بھی تجھے میں کہوں تو مِری نہیں سنتا
اے دل! مگر تِرے پر اختیار کس کا ہے
جہاں پہ چاہتوں کا سبزہ زار ہوتا تھا
وہاں پہ نفرتوں کا خار زار کس کا ہے
جہاں محبتوں کا ٹائی ٹین ڈوبا تھا
وہاں پہ جسم پڑا تار تار کس کا ہے
کبھی محبتیں انمول تھیں زمانے میں
یہاں محبتوں کا کاروبار کس کا ہے
تُو ڈھونڈتا ہے جو مسعوؔد پیار لوگوں میں
وہ ماں کے پیار سے بے لوث پیار کس کا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






