جہاں میں لازوال کیا ہے عشق مصطفٰیً نے
Poet: muhammad aqeel hazoory By: muhammad aqeel hazoory, karachiبسم اللہ الرحمن الرحیم
ஜ▬▬▬▬ஜ ۩۞۩ ஜ▬▬▬ஜ ஜ▬▬▬ஜ ۩۞۩ ஜ▬▬▬ஜ
اللَّهُـمّ صَــــــلٌ علَےَ مُحمَّــــــــدْ و علَےَ آل مُحمَّــــــــدْ
كما صَــــــلٌيت علَےَ إِبْرَاهِيمَ و علَےَ آل إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حَمِيدٌ
مَجِيدٌ اللهم بارك علَےَ مُحمَّــــــــدْ و علَےَ آل مُحمَّــــــــدْ كما
باركت علَےَ إِبْرَاهِيمَ و علَےَ آل إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حَمِيدٌ مَجِيدٌ
ஜ▬▬▬▬ஜ ۩۞۩ ஜ▬▬▬ஜ ஜ▬▬▬ஜ ۩۞۩ ஜ
پاکیزہ میرا حال کیا ہے عشقِ مصفٰفیؐ نے
دل نور سے مالا مال کیاہے عشقِ مصطفٰیؐ نے
نفس ہے قیدی زکرِ مصطفٰیؐ کے پہرے میں
ایسا حسیں کمال کیا ہے عشقِ مصطفٰیؐ نے
نعت خواہانِ مصطفٰیؐ میں شمار کر کے
بے مول کو انمول کیا ہے عشقِ مصطفٰیؐ نے
نصیب ہے زیارت جیسے حسنِ کمال کی
اسے صاحبِ جمال کیا ہے عشقِ مصطفٰیؐ نے
فخرِ جہالت تھے زمانے میں جو، ان کو
علم میں بےمثال کیا ہے عشقِ مصطفٰیؐ نے
سلام، اصحابِ مصطفٰیؐ کی عظمت پر، جن کو
جہاں میں لازوال کیا ہے،عشقِ مصطفٰیؐ نے
گردشِ دوراں کے تھے مارے ہوے جو
ایسوں کو لجپال کیا ہے عشقِ مصطفٰیؐ نے
جن کے دلوں میں بستے ہیں مصطفٰیؐ حضوری
ایسوں کو صاحبِ حال کیاہے عشقِ مصطفٰیؐ نے
ஜ▬▬▬▬ஜ ۩۞۩ ஜ▬▬▬ஜ ஜ▬▬▬ஜ۩ ۞۩ ஜ▬▬▬ ஜ
اللَّهُـمّ صَــــــلٌ علَےَ مُحمَّــــــــدْ و علَےَ آل مُحمَّــــــــدْ
كما صَــــــلٌيت علَےَ إِبْرَاهِيمَ و علَےَ آل إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حَمِيدٌ
مَجِيدٌ اللهم بارك علَےَ مُحمَّــــــــدْ و علَےَ آل مُحمَّــــــــدْ كما
باركت علَےَ إِبْرَاهِيمَ و علَےَ آل إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حَمِيدٌ مَجِيدٌ
ஜ▬▬▬▬ஜ ۩۞۩ ஜ▬▬▬ஜ ஜ▬▬▬ஜ ۩۞۩ ஜ
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






