جی کرتا ہے اب گھونٹ لگا لوں او دمِ آخر
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaجی کرتا ہے اب گھونٹ لگا لوں او دمِ آخر
خود بھی ذرا قیس بنا لوں دمِ آخر
ہے شوق مجھے دامنِ گلدار کہ تیرے
دامن میں ستاروں کو سجا لوں دمِ آخر
ہم راز اگر تجھ کو برا لگتا نہیں تو
ان آنکھوں سے کچھ درد بہا لوں دمِ آخر
غم میرے زمانے میں کوئی سنتا نہیں تو
رو رو کے وہ تجھ کو ہی سنا لوں دمِ آخر
جو تیر نگاہوں کے صنم دل پہ چلے ہیں
ان تیروں کے میں زخم دکھا لوں دمِ آخر
ہم دونوں ہی غمخوار اسے ڈھونڈیں گے مل کر
اور پوچھ ہواوں سے پتہ لوں دمِ آخر
کب ان سے بچھڑ جاوں یہ معلوم نہیں تو
روٹھے ہوئے یاروں کو منا لوں دمِ آخر
ضیغم کی جدائی میں جو آنکھوں سے بہا خوں
اس خون کو ہاتھوں پہ لگا لوں دمِ آخر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






