جے بی ایس ایس
Poet: saiyaan_sham By: saiyaan_sham, rawalpidiہم اپنی پہچان بھیجے گے
تمہیں اپنی ایماں بھی بھیجے گے
بس تھوری شام ڈھلنے دو
ھمیں تھوڑا اندھیروں میں جلنے دو
ھم تمھیں اپنی انا اپنی شان
اپنا نام بھی بھیجے گے
واعدہ ہے تم سے
اندھیروں میں بھی بجھہ گے گر ہم تو
تمھیں اک پیغام بھیجے گے
اک قاصد کے ہاتھہ تمھیں اپنے
کفن کا سامان بھیجے گے
ہمیں اپنے ہاتھہ سے پہنانا
اور اپنے ہاتھہ سے دفنانا
پھر کسی دن باد صبا کا اک جھونکا تمہیں چھو کر بولے گا
ہم وہاں سے آئے ہیں
جہاں پہ آپ کے سائے ہیں
تب محسوس ہو گا تمہیں
سلام بھیجا ہے
تیرے ہی نام بھیجا ہے
سیاں تیرے ہی نام بھیجا ہے
زندگی تم سے وابستہ ہے
ہمیں جینے کا کوئی سامان بھیجوں
یہ سانسیں تم میں بستی ہیں
ہمیں تم اپنی پھچان بھیجو
مجھے تم اتنا سمجھاؤ
یہ کیسے ممکن ہے
تمھارے نا ہونے سے
ہماری سانسیں جو چلتی ہوں
بھلا یہ کیسے ممکن ہیں
اسی قاصد کے ہاتھہ ہم اپنی جان بھیجے گے
تم ایسا کرنا
پھر اپنے بے جان وجود میں
ہماری جان ڈال دینا
اور پھر ہم ایک ہو جائے گے
اس دنیا سے جا کر بھی
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






