حالات کے کفیل کو کوئی ٹھکانا مل جائے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiحالات کے کفیل کو کوئی ٹھکانا مل جائے
اپنی زندگی کو کیئے کا جُرمانہ مل جائے
محبت کی تجلی کو ناپوں گا بھی کس سے؟
ہاں تشنگی کی گہرایوں کا پیمانہ مل جائے
کہیں ڈھونڈنے سے پارسائی نہیں ملتی
سب یہی چاہتے ہیں کہ بہانہ مل جائے
اندر پڑے عذاب دنیا سے چھپانا چاہتا ہوں
ابکہ تشنہ لبوں کو اک بار مسکرانا مل جائے
اپنے عمل کے ردعمل ہونے تک مجھے
اطاعت سے منحرف جداگانہ مل جائے
ہر انقلاب کی تعظیم لڑیں گے سنتوشؔ
بس مجھ کو فقط میرا زمانہ مل جائے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






