حز ن وملا ل کا منظر
Poet: saba By: saba, lahore میں نے آج دیکھا حزن و ملا ل کا منظر اسکی آ نکھوں میں
وہ بھی آج عا رض پے آنسو بہا رہی تھی
پھیکی سی ہسی مسکرا رہی تھی
کسی کی راہ تاڑ رہی تھی
ہر آہٹ اسے ستا رہی تھی
بھیٹے بھیٹے گھبرا رہی تھی
آ ج وہ بھی اسی کیفیت میں ز ند گی گزار رہی تھی
پو چھا کسی نے ۔۔
یہ سب کیسے ہوا؟
بو لی اسکے جا نے کے بعد
مو ت بھی مجھے دھتکا رہی تھی
میں دیکھ کر خو ش ہوا اسکی حا لت
لیکن آنکھو ں ۔میں میرے نمی بھی اس کے لئے آ رہی تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






