حسد

Poet: رعنا کنول By: Raana Kanwal, Islamabad

وہ مجھ سے حسد میں بہت آگے نکل گیا
گمان یہ بھی نہ کیا کے کیا ہوگا انجام اسکا
ہر حربہ اس نے آزما لیا حسد کی لڑائی میں
بھول گیا وہ کے دھکیل رہا وہ خود کو کھائی میں
دشمنی کے غصے میں حسد اسکی انتہا کی ہوگی
ہوش اسے یہ بھی نہ رہا کے کون اپنا کون پریا ہے
سنا ضرور تھا کے حسد کی نظر کھا جاتی ہے خوشیوں
آج تو دیکھ بھی لیا جب لوٹ گئی پل بھر میں میری اپنی دنیا
دعا ہے الله کبھی کسی کو حاسد سے نہ ملواے زندگی میں
یہ وہ لوگ ہیں جو چپ چاپ جلا دیتے ہیں آنگن کسی کا
کنول خود کو اب سواے دلاسے کے تو کچھ دے نہیں سکتی
مجھے کیا خبر تھی کے وہ حسد میں ا تنا آگے نکل جائے گا
 

Rate it:
Views: 1259
25 Jun, 2019
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL