حسرتِ شب کو مار دوں گی میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاحسرتِ شب کو مار دوں گی میں
زندگی یوں گزار دوں گی میں
بیچ کر میں یہ زندگی اپنی
تیرا قرضہ اتار دوں گی میں
بےقراری مجھے رہے گی مگر
تیرے دل کو قرار دوں گی میں
اپنی گم گشتہ دوستی کا کبھی
شہر میں اشتہار دوں گی میں
پہلے نقصان ہو چکے ہیں بہت
اب نہ تم کو ادھار دوں گی میں
قسم جاتے ہوئے دسمبر کی
جنوری کو سنوار دوں گی میں
تُو خزائیں یہاں مسلط کر
وشمہ بادِ بہار دوں گی میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






