حسرتیں جگانے آیا
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAمیرا پیار مجھ سے آج ملنے آیا
دل میں نئی حسرتیں جگانے آیا
سر شام مجھ پہ چھا جاتی تھی اداسی
میری شامیں سہانی بنانے آیا
آنکھیں ترس گئی تھیں نیند کو
رت جگوں کا ملال وہ مٹانے آیا
مجھے اپنی قسمت پہ بھروسہ نہ تھا
سوئی قسمت کو پھر سے جگانے آیا
بے کیف تھی میری زندگی اس کے بغیر
میری زندگی میں نئے رنگ سجانے آیا
جاوید اس نے ہم پہ احسان کیا، مگر
اپنے جیون کی بہار وہ ہم سے لینے آیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






