حسرتیں شور مچائیں تو غضب ہوتا ہے
Poet: Taj Rasul Tahir By: Taj Rasul Tahir, Islamabadحسرتیں شور مچائیں تو غضب ہوتا ہے
راز _دل تم کو بتائیں تو غضب ہوتا ہے
آنکھ شیدائی ہے جلوے کی تمنائی ہے
تاب_جلوہ نہ بڑھائیں تو غضب ہوتا ہے
ہاتھ باندھے ہی کھڑے رہتے ہیں در پر ساکت
آپ گر بام سجائیں تو غضب ہوتا ہے
جلوے قدرت کی صناعی کے ہویدا ہیں بہت
آپ گر سامنے آئیں تو غضب ہوتا ہے
سب کو ہی بھاتی ہے کلیوں کے چٹخنےکی ادا
آپ گر ہونٹ ہلائیں تو غضب ہوتا ہے
نکہت_حسن کے چکر میں صبا گرداں ہے
آپ کی ہوں نہ عطائیں تو غضب ہوتا ہے
آپ ست سلسلہء_گفت کا من طالب ہے
آپ کے قرب میں آئیں تو غضب ہوتا ہے
تاج!کہنے کو میرا ساتھ تو دیں گے لیکن
پل میں دامن کو چھڑائیں تو غضب ہوتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






