حسن تیرا اس قدر لاجواب ہو جائے
Poet: kashif imran By: kashif imran, Mianwaliخدا کر ے کہ ایسا تیرا یہ شباب ہو جائے
چاند بھی دیکھے تو شرم سے آب آب ہو جائے
پوری تیری ہر تمنا ہو اور بر آئے تیری ہر امید
جیون کا تیرے پورا ہر اک خواب ہو جائے
جو بھی دیکھے تجھے ، دیکھتا ہی جائے
حسن تیرا اس قدر لاجواب ہو جائے
زندگی کے کچھ لمحے ترے ساتھ بھی بسر کر لوں
جئیں ہیں جو ترے بن ، ان کا حساب ہو جائے
ہوش اپنا وہ کھو دیتا ہے، ہو جاتا ہے دیوانہ
میسر جسے تیری دید کی شراب ہو جائے
پیار تیرا مل جائے جسے اس زمانے میں
عشق کی سلطنت کا وہ نواب ہو جائے
مسکرا کے دیکھ لو ذرا بھر کے لئے عاشقوں کی طرف
دل کسی کا رکھنے کا ، کبھی یہ بھی ثواب ہو جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






