حسین ہیں تو غرور بھی ہو گا ُاس میں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaجاناں ! اتنا بھی تو
کسی کو ستایا نہیں کرتے
دوسروں کی باتوں میں آکر
اپنوں کا دکھایا نہیں کرتے
رکھ کر اپنے ہی ہاتھوں میں جام
پھر خود کو ترسایا نہیں کرتے
لکھ کر حال دل کاغذوں پے
پھر ُانہیں جلایا نہیں کرتے
کشتی میں بھٹنا ہیں تو پھر
ڈوبنے سے کبھی گھبرایا نہیں کرتے
چاند کر طرح چمکنا ہیں تو پھر
اندھروں سے دامن چھڑایا نہیں کرتے
شیشہ ہیں تو ٹوٹ جایئں گا تو پھر
کانچ ُاٹھاتے ہاتھوں پے زخم لگایا نہیں کرتے
دل کے رشتے تو کاچے دھاگیے کی مانند ہوتے ہیں
جاناں ! کاچے دھاگوں کو الجھایا نہیں کرتے
حسین ہیں تو غرور بھی ہو گا ُاس میں
اس لیے حسین لوگوں سے دوستی کیا نہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






