حسیں اک شام کا لمحہ بنا رکھا ہے یادوں میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاتصور کا جزیرہ سا سجا رکھا ہے یادوں میں
حسیں اک شام کا لمحہ بنا رکھا ہے یادوں میں
اندھیروں نے مرے گھر کو ہی اپنا راستہ سمجھا
دیابھی یاد کا میں نے بجھا رکھا ہے یادوں میں
پرانا زخم سینے میں خوشی کیسے مری بنتا
ترے دردِ محبت کو اٹھا رکھا ہے یادوں میں
مجھے جیتے ہوئے اس نے تو زندہ مار ڈالا ہے
مگر اس کا یہاں نامِ وفا رکھا ہے یادوں میں
وہاں بھی مست آنکھوں میں مری دنیا کے پنچھی ہیں
یہاں بھی پیار کا موسم سجا رکھا ہے یادوں میں
مرے نایاب شعروں میں تمہارا ذکر ہے شامل
فنونِ عشق کا سجدہ سجا رکھا ہے یادوں میں
سفر میں چور ہو کر پھر چلی آنا مجھے ملنے
تمھارا راستہ وشمہ کھلا رکھا ہے یادوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






