حسیں رت ہو صبا کی
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, Wales ukحسیں رت ہو صبا کی نازکی ہو گستاں ہو تم
وفا کی داستاں جانِ ادا حسنِ جہاں ہو تم
حقیقت شعلہ رخ تیری بھلا میں کیوں بتاؤں نہ
تیرے جلووں کے سائے میں کہیں جل ہی جاؤں نہ
تمہارے حسن کے گل رخ شرارے ہیں کہ انگارے
مگر کیوں شبنمی پھولوں کو آنکھوں سے لگاؤں نہ
میری رگ رگ میں رقصاں ہو میری دھڑکن رواں ہو تم
وفا کی داستاں جانِ ادا حسنِ جہاں ہو تم
کرشمہ ہے محبت کا صنم یا معجزہ دل کا
کوئی جادو نگر لگتا ہے تیرا آئینہ دل کا
دھنک کے رنگ دیکھے ہیں گھلے آنکھوں کی مستی میں
بہک جائے کہاں جانے نہیں کوئی پتہ دل کا
گروں آغوش میں تیری کہ اک دریا رواں ہو تم
وفا کی داستاں جانِ ادا حسنِ جہاں ہو تم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







