حقیقتوں کو اگر بے نقاب کر دیتے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKحقیقتوں کو اگر بے نقاب کر دیتے
ہم ایک پل میں اُنھیں لاجواب کر دیتے
نجانے کب کا یہ دِل ڈُوب ہی گیا ہوتا
یہ اشک دِل کو اگر زیرِ آب کر دیتے
اگر وہ ہم پہ ذرا اعتبار کر لیتے
تو اُن کی راہ کے کانٹے گلاب کر دیتے
وہ دیکھ لیتے نظر بھر کے ایک بار اگر
تو بے نیازِ عذاب و ثواب کر دیتے
خدا کا شکر ہے بے خواب ہوگیںٔ آ نکھیں
وگرنہ خواب تو جینا عذاب کر دیتے
وہ دیکھ لیتے کبھی جھانک کر اگر دِل میں
ہم اپنے دِل کو کھلی اِک کتاب کر دیتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







