حقیقتِ محبت کچھ یوں بیاں ہوتی ہے
Poet: Muhammad Khalid Saleem By: Muhammad Khalid Saleem, Faisalabadاِک روز جب میں اُس سے گویا ہوا
تھا کہیں کسی سوچ میں وہ کھویا ہوا
کہا میں نے کہاں گُم تھے
جواب سارے ہی اُس کے مبہم تھے
پھر وہ کسی رو بہنے لگا
خود ہی مجھ سے کہنے لگا
مجھ کو تو شاید محبت ہو گئی ہے
کہا میں نے عقل تیری لگتا ہے کھو گئی ہے
بھلا یہ بھی کرنے کا کوئی کام ہے
یوں کہہ لو کہ یہ تو بہت ہی بدنام ہے
دیکھا ہے میں نے وعدوں کے بنتے بھی
پھر دیکھا ہے زبانوں سے بدلتے بھی
محبت کی زنجیروں کو بھی دیکھا ہے
اُلٹتی ہوئی تدبیروں کو بھی دیکھا ہے
لگا کہنے یہ تو بس تیرا خیال ہے
میری تو محبت ہی لازوال ہے
محبت تو وہ ہے جو دِلوں کو محصور کر دے
حالات کو بھی حق میں اپنے مجبور کر دے
کہا میں نے خود فریبی تو دھوکہ ہے
لگا کہنے مجھے خود پہ بھروسہ ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







