حقیقت والے
Poet: سعدیہٓ اعجاز By: sadiaijazhussain, Lahore,University oF Educationمحوِ رَقص ہیں , آشناۓ حقیقت والے
لفظ خاموش , دل مدہوش , سر !محبت کی آغوش
کہیں دُور پڑی دنیا , جہاں وہ ہیں وہ اک شور
آنکھیں جستجوۓ حق، جسم وَجدی , رُوح اک کشمکش ماحول
محبوب کی بات میں جی ، , دل تمناٸی صورت ، حیرت بھرا کشکول
سر حاضر , عقل تقلیدِ عشق , جسم رجوع محبوب
رقص حقیقی , عشق حقیقی , حقیقت آمیز ماحول
اجتناب انا ، اجتناب میں ، تُو ہی تُو ہر سو
گفتگو حقیقی، سر مست بہارِ یارانہ ،
دنیا فانی
نگاہ نظارہ ، اعجاز عطائ , ایمان کامل
دل شاداب , ساقی کی آرزو , مے کی طلب ہے کچھ اور
رونق دنیا سے کوچ , دل کی سکوت میں رہائش
حیرت سے پر جوش، لب خاموش ، سوچ محو گردش ٬ سوچیں مدہوش
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






