حقیقت کا اصل آئینہ کوئی دکھائے مجھے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaحقیقت کا اصل آئینہ کوئی دکھائے مجھے
جھوٹ کل تھا یا آج کوئی سمجھائے مجھے
وہم و گماں میں سو گیا ہوں میں گہری نیند
خدا کے واسطے ہی کوئی آ جگائے مجھے
کہاں کمی تھی بھلا میری دعاؤں میں ، فریادوں میں
اے خالقِ دو جہان اب آپ ہی بتلائے مجھے
گزارش ہے صنم انکار مت کی جیئے گا
کیسے بھول جاتے ہیں یہ ہنر سیکھائے مجھے
دو جسموں کو جدا کر کے مسکراؤ نہ لوگوں
ایسا دن ہی نہیں کوئی خیال اُس کا نہ ملنے آئے مجھے
مَیں قید میں ہوں اُس کی نگائے طلسم میں
بلاؤ کسی عالم کو جو چھڑائے مجھے
نہال شاعری میں ذکر ہے جس پَری کا
اُسی کومل پَری کی کچھ داستان سنائے مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






