حقیقت ہے یہ افسانہ نہیں ہے
Poet: Muhammad Faisal By: Muhammad Faisal, Karachiیہ ہر لیلیٰ کا دیوانہ نہیں ہے
یہ ہر شمع کا پروانہ نہیں ہے
مجھے تو ہے فقط اِس بات کا غم
مجھے تم نے بھی پہچانا نہیں ہے
مرے جذبات سے تم بے خبر ہو
مری چاہت کو سچ جانا نہیں ہے
مجھے ڈر ہے کہیں تم نے بھی شاید
مجھے اپنا کبھی مانا نہیں ہے
مری غلطی پہ میرا سر ہے حاضر
کہ ناداں ہے یہ فرزانہ نہیں ہے
تری چاہت میں لیکن یہ میرا دل
فقط کہنے کو دیوانہ نہیں ہے
مری تم بات پہ کرلو بھروسہ
تمھارا ہے یہ بیگانہ نہیں ہے
بتایا حالِ دل فیصلؔ نے کھل کر
حقیقت ہے یہ افسانہ نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






