حناٸی دستِ نازک میں تو دیکھو زور کی صورت
Poet: Syed Iftikhar Ahmed Rashk By: Syed Iftikhar Ahmed Rashk, Karachiحناٸی دستِ نازک میں تو دیکھو زور کی صورت
شکستہ دل کیا اس پر نہ چھوڑی شور کی صورت
نہیں خاطر میں لاٸے آرزوٸے عاجزانہ کو
قدم سے روند کے کوٸی نہ رکھی غور کی صورت
سہے ہنس ہنس کے، نہ کوٸی گلہ یوں بھی کیا جاناںؔ
تری صورت حسیں کتنی ہے ظلم و جَور کی صورت
چُراکے دل چُرالی ہے نظر، میرا نہیں دعویٰ
مگر محفل میں خود کترا گٸے ہو چور کی صورت
سنا ہے ہم نے کہ تاریخ دہراتی ہے اپنے کو
جو یوں ہے تو دکھادے پھر پرانے دور کی صورت
مسافر کو سراٸے عام نہ منزل دکھاٸی دے
سجاٸے رکھتا ہوں آنکھوں میں اپنی گور کی صورت
جُڑا ہے رشکؔ تارِ عشق سے مثلِ نگیں گوہر
بظاہر درمیاں کوٸی نہیں ہے ڈور کی صورت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






