حُور دُنیا میں ملی تھی ، پر مری مانے گا کون
Poet: شہزاد قیس By: Shahzad Qais, لاہورحُور دُنیا میں ملی تھی ، پر مری مانے گا کون
جنت اَپنے گھر میں ہی تھی ، پر مری مانے گا کون
غنچے اُڑتے پھر رہے تھے روشنی میں اَبر کی
چاندنی خوشبو بھری تھی ، پر مری مانے گا کون
خوشنما ، قوسِ قُزح تھی ، جگنوؤں کے جسم پر
تتلیوں میں روشنی تھی ، پر مری مانے گا کون
ریت کی برکھا میں دُھل کے ، کھِل اُٹھے تازہ گلاب
بارِشوں میں تشنگی تھی ، پر مری مانے گا کون
شَہرِ خاموشاں میں نِصفِ شَب کی سُوئیاں ملتے ہی
زِندگی ہی زِندگی تھی ، پر مری مانے گا کون
آنکھوں دیکھا واقعہ ہے ، ایک ضِدّی دِل رُبا
اِس غزل پر مر مٹی تھی ، پر مری مانے گا کون
مُلک میں وُہ اَمن تھا کہ بادشہ کے حُکم پر
’’جُرم‘‘ کی گھنٹی بجی تھی ، پر مری مانے گا کون
آئینے سے جب ذِرا سا ، دُور ہٹ کے رو پڑے
عکس نے آواز دی تھی ، پر مری مانے گا کون
شاخ سے بچھڑی کلی پہ ، شبنمی قطرے نہ تھے
وُہ تو تتلی رو رہی تھی ، پر مری مانے گا کون
شک پرست اِحباب کو میں ، قیس گو یہ کہہ تو دُوں!
یہ غزل ’’کچھ‘‘ عام سی تھی ، پر مری مانے گا کون
شہزاد قیس کی کتاب "لیلٰی" سے انتخاب
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






