حیات گم گشتہ--چودہ
Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindi کیا یا د تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی تھی ا ک لڑ کا تھا
چٹھی کر کے د فتر سے سڑ کو ں پہ پھر تا ر ہتا ہے
تقد یر بھی شا ید ہر د م بر کے کی تا ک میں ر ہتی ہے
مو قع پا تے ہی ا س کو گھر ے میں لے لیتی ہے
پر ا نے زخم ہر ے کر دیتی ہے
شا م کو لڑ کا شہر سے با ہر پا ر ک میں بیٹھا ر ہتا تھا
خا لی خا لی ذہن لئے لو گو ں کو تکتا ر ہتا تھا
ز یست کی گہما گہمی سے وُہ ا لگ تھلگ سا ر ہتا تھا
چا رو ں جا نب ا س کے زندگی ر و ا ں د و ا ں سی ر ہتی تھی
وہ بھی ا یسی شا م تھی جس نے ز ند گی کا ر خ مو ڑ د یا
ا یسا ا ک طو فا ن تھا جس نے ا سے ا چا نک گھیرا تھا
پا ر ک کی ا ک بنچ پہ لڑ کا جا مد سا کت بیٹھا تھا
و ہ چہرہ ہا ں و ہ چہرہ ا س لڑ کی کا چہر ہ تھا
جو لا کھو ں میں بس ا یک ہی تھا
و ہ چہرہ
د ل پہ نقش ا ور ذہن پہ ہا و ی تھا
و ہ چہرہ
جس کے لئے و ہ د ر در پھر تا ر ہتا تھا
و ہ چہر ہ
جسے کو بکو ڈ ھونڈا تھا ا س نے
و ہ چہرہ
جس کے لئے ا س نے د ن کا چین
او ر را تو ں کی نیند گنو ا ئی تھی
کیا یا د تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی تھی ا ک لڑ کا تھا
( جا ر ی)
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






