حیات گُم گشتہ--گیارہ
Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindi کیا یا د تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی تھی ا ک لڑ کا تھا
د ل کی اُ جڑ ی بستی کا د ن ر ا ت وُہ ما تم کر تا تھا
د ل کے و یر ا ں ہر کھنڈ ر کی وُ ہ ر و ز ز یا ر ت کر تا تھا
یا د و ں کے د لکش مو تی وُ ہ ر و ز و ہا ں جا چُنتا تھا
جہاں جہاں لڑ کی کی حسیں یا د و ں کا خز ینہ بکھر ا تھا
تا لا ب کنا رے بیٹھ کے وُ ہ پھر ا شک بہا یا کر تا تھا
ا و ر سو چو ں میں کھو جا تا تھا
چشم تصو ر میں ا س کو منظر یہ د کھا ئی د یتا ہے
وُ ہ غر یب کسا ں کا بیٹا ہے
کھیتو ں کا سینہ چیر کے وُ ہ
سو نے کی فصل اُ گا تا ہے
وُ ہ لڑ کی اُ س کی بیو ی ہے
ا ور پیا ر ے پیا رے بچے ہیں
گھر ا س کا ا ک جنت ہے
سو ر ج جب ا پنی منز ل کا سفر طے کر تا ہے
لڑ کا پگڈ نڈ ی پہ مسلسل نظر جما ئے ر ہتا ہے
لڑ کی کو جس پہ آ نا ہے
د و ر سے اُ س کو لڑ کی کی ا ک جھلک د کھ ئی د یتی ہے
گو د میں بچہ سر پہ ر و ٹی لا تی ہے
خو شی سر شا ر ی سی ا ک لڑ کے پہ طا ر ی ہو تی ہے
د یکھ کے سر شا ری ما لک کی بیل ا س کے رُ ک جا تے ہیں
کیا یا د تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی تھی ا ک لڑ کا تھا
(جا ر ی)
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں







