حیات گُم گشتہ--گیارہ
Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindi کیا یا د تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی تھی ا ک لڑ کا تھا
د ل کی اُ جڑ ی بستی کا د ن ر ا ت وُہ ما تم کر تا تھا
د ل کے و یر ا ں ہر کھنڈ ر کی وُ ہ ر و ز ز یا ر ت کر تا تھا
یا د و ں کے د لکش مو تی وُ ہ ر و ز و ہا ں جا چُنتا تھا
جہاں جہاں لڑ کی کی حسیں یا د و ں کا خز ینہ بکھر ا تھا
تا لا ب کنا رے بیٹھ کے وُ ہ پھر ا شک بہا یا کر تا تھا
ا و ر سو چو ں میں کھو جا تا تھا
چشم تصو ر میں ا س کو منظر یہ د کھا ئی د یتا ہے
وُ ہ غر یب کسا ں کا بیٹا ہے
کھیتو ں کا سینہ چیر کے وُ ہ
سو نے کی فصل اُ گا تا ہے
وُ ہ لڑ کی اُ س کی بیو ی ہے
ا ور پیا ر ے پیا رے بچے ہیں
گھر ا س کا ا ک جنت ہے
سو ر ج جب ا پنی منز ل کا سفر طے کر تا ہے
لڑ کا پگڈ نڈ ی پہ مسلسل نظر جما ئے ر ہتا ہے
لڑ کی کو جس پہ آ نا ہے
د و ر سے اُ س کو لڑ کی کی ا ک جھلک د کھ ئی د یتی ہے
گو د میں بچہ سر پہ ر و ٹی لا تی ہے
خو شی سر شا ر ی سی ا ک لڑ کے پہ طا ر ی ہو تی ہے
د یکھ کے سر شا ری ما لک کی بیل ا س کے رُ ک جا تے ہیں
کیا یا د تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی تھی ا ک لڑ کا تھا
(جا ر ی)
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے







