خاموشیِ دل مجھ سے یہ اظہار کرے ہے
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaخاموشیِ دل مجھ سے یہ اظہار کرے ہے
راتوں کو جو اکثر مجھے بیدار کیا ہے
ان آنکھوں نے دیدار ترا جب سے کیا ہے
اس دن سے تجھے آج بھی دل پیار کرے ہے
تم لاکھ چھپاتی رہو ان پردوں میں خود کو
پردوں میں بھی دیوانہ یہ دیدار کرے ہے
معلوم نہیں مجھ کو تو مل پائے گی لیکن
یہ سوچ تجھے پانے کا اصرار کرے ہے
اس طرح جلاتے ہو سوال آتا ہے دل کو
کیا ؟ خون جلانے کا تو بیوپار کرے ہے
دیوانوں کے ہر عزم سے واقف ہے زمانہ
پھر ان میں کھڑی جانے کیوں دیوار کرے ہے
محفل میں تو ہونٹوں پہ ہیں خاموشی کی مہریں
تنہائی میں تلوار سی گفتار کرے ہے
مشکور ہیں اس صاحبِ الفاظ کے ضیغم
جو میرے سبھی لفظوں کو اشعار کرے ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






