خاموشی میں بول رہے ہیں
Poet: Ajmal Nazir By: Ajmal Nazir, abbottabadہم تم دونوں
اک مدت کے بعد ملے تو
رُخ پہ فرقت کے لمحوں کی گرد جمی ہے
یاد تو ہو گا
اک دوجے سے برھم ہو کر
نئے سہارے ڈھونڈ رہے تھے
سپنوں کی اک ناؤ تھی بس
اور کنارے ڈھونڈ رہے تھے
ناداں تھے ناں۔۔۔۔ نادانستہ
اپنے ہاتھ میں خنجر لے کر
اپنے دل پر وار کیا تھا
اپنا دامن تار کیا تھا
کتنے خوش تھے وقت کے ہاتھوں لُٹ جانے پر
لیکن۔۔۔۔ مدت بعد ملے تو
اپنا راز چھپا کر دونوں، دل کو قُفل لگا کر دونوں
گُم صم ، گُم صُم ،چُپ بیٹھے ہیں
لیکن آنسو چھلک چھلک کر
راز دلوں کا کھول رہے ہیں
خاموشی میں بول رہے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






