خامہ و اوراق کاپی پنسل
Poet: UA By: UA, Lahoreجب بھی ہو دل اداس دیتے ہیں میرا ساتھ خامہ و اوراق کاپی پنسل
دن ہو یا چاہے رات رہتے ہیں ساتھ ساتھ خامہ و اوراق کاپی پنسل
خوشی کی یا غمی کی ہو کوئی ایسی بات نہ کہہ سکوں زبانی
کہتے ہیں باروانی میری ہر ایک بات خامہ و اوراق کاپی پنسل
غصہ ہو کہ ہنسی ہو جھگڑا کہ دوستی ہو اور مجھ سے نہ بیاں ہو
کرتے ہیں باآسانی بیاں میری جیت مات خامہ و اوراق کاپی پنسل
تنہائی کی کسک ہو یا بزم کی دمک ہو بات پرانی ہو کہ یاد سہانی
ٹلتے نہیں کبھی یہ لیتے ہیں ہاتھوں ہاتھ خامہ و اوراق کاپی پنسل
میں بھول ہی نہ جاؤں خود کو بتانا چاہوں لیکن بتا نہ پاؤ ں
رکھتے ہیں یاد لیکن میری ایک بات خامہ و اوراق کاپی پنسل
ان سے چھپا نہ پاؤں ہر بات انھیں بتاؤں پوشیدہ کب رہا ہے
ان سے میرا کوئی راز یہ بن گئے ہیں گویا کہ اب میرے ہمراز
رہتے ہیں سایا بن کے میرے ساتھ ساتھ خامہ و اوراق کاپی پنسل
رہتے ہیں میرے ساتھ بن کے میری ذات خامہ و اوراق کاپی پنسل
جب بھی ہو دل اداس دیتے ہیں میرا ساتھ خامہ و اوراق کاپی پنسل
سن ہو چاہے رات رہتے ہیں ساتھ ساتھ خامہ و اوراق کاپی پنسل
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






