خدا نے چاہا تو ہم مل ہی جائیں گئے اک دن
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaاس قدر بے رخی تو اختیار نا کیا کرو
خفاء ہو لیکن یو بدنام نا کیا کرو
میری ہستی تیرے بغیر کچھ نہیں ہے
اپنی ہستی کو مجھ سے ُجدا نا کیا کرو
تیری مسکان مجھے زندگی دیتی ہیں جاناں
تم بس اپنی آنکھوں کو اشک بار نا کیا کرو
لکھ کر نام ساحل کنارے پے پھر تم
نام کو مٹاتی لہروں کو شمار نا کیا کرو
زندگی تو اک تلخ حقیقت ہیں جاناں
تو تم مرنے کا انتخاب نا کیا کرو
مانگنے سے بھی جس در سے کچھ نا ملے
تم ُاس در پے اور انتظار نا کیا کرو
ہماری قسمیتں تو لکھی جا چکی ہیں جاناں
تو تم زمانے سے تکرار نا کیا کرو
یہ دوریاں تو پیار بھڑاتی ہیں جاناں
تو تم ان دوریوں سے شکایت نا کیا کرو
خدا نے چاہا تو ہم مل ہی جائیں گئے اک دن
مگر تم رو رو کر اپنا ُبرا حال نا کیا کرو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






