خراج
Poet: Farhaj A Bajwa By: Farhaj Ahmad Bajwa, Lahore Right now Alexandria (Egypt)کہو تو چندا زمیں پے لا دوں
کہو تو ذرے بھی جگمگا دوں
کہو تو اُڑ کر تمہیں دکھا دوں
کہو تو تارے بھی توڑ لاؤں
کہو تو ممکن کو ممکنوں کی حدوں سے
آگے میں لے کے جاؤں
کہو تو زمیں کا سینہ چیر کے
سارے خزانے میں ڈھونڈ لاؤں
کہو تو سمندر کو بوند کر کے
تمہارے قدموں ِمیں مَیں بہا دوں
کہو تو جانم تمہاری خاطر
ساری دنیا سے اُلجھ جاؤں
کہو تو قوسِ قزا کے رنگ بھی
تمہاری جنری پے میں سجا دوں
تمہاری خاطر جو تم کہو تو
خزاںمیں پھولوں کو میں کھلا دوں
اگر ےیہ ساری باتیں
ہیں حقیقت
تو یہ حقیقت بھی جان لو تم
کے سوائے دل کے ہر اک شے پے
ہے رعب اپنا
ہے دھونس اپنی
سو اپنی شرط تم
ہٹا ہی ڈالو
کے جیت لوں میں دل تمہارا
ہاں!
اپنے دل کو خیرات کردو
خیرات دے کر
خراج لے لو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







