خلوص دل کی روشنائی لے کر ، بادیدہ تر حسین لکھنا
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIخلوص دل کی روشنائی لے کر ، بادیدہ تر حسین لکھنا
تم ایسا کرنا ، کتاب دل کے ورق ورق پر حسین لکھنا
کشید کر گلاب کا عرق ،فضا میں پہم چھڑکنا اس کو
پھر ان سنہری فضاﺅں پر تم ، روشنی کا پیکر حسین لکھنا
آذان دیں گی تماری آنکھیں، نماز مصرعے اد ا کریں گی
تم ایسا کرنا کہ راہ حق میں ، حیسن پڑھ کر حسین لکھنا
حروف خوشبو کے پھول بن کر ، تھمارے سینے میں کھل اٹھیں گے
تم ایسا کرنا کہ اپنی آنکھوں اور اپنے لب پر حسین لکھنا
تمھارے تاریک منظروں مین اجالے پھوٹیں گے نور بن کر
تم ایسا کرنا کہ اپنے گھر میں درود پڑھ کر حسین لکھنا
حیسن لکھ کر ، پھر اس کو لکھنا ، پھر اس کو لکھ کرتم ایساکرنا
کہ آج تک تم نے جوبھی لکھا ، تم اس کا محور حسین لکھنا
وہ برچھیاں ، وہ چمکتے خنجر ، وہ تپتے صحرا پکارتے ہیں
تم ایسا کرنا کہ کربلا کے بدن پہ جا کے حسین لکھنا
اگر کتابت کا شوق ہو تو کتاب صبر ورضا میں راحت
جہاں شہیدوں کا نام لکھنا تو سب سے اوپر حسین لکھنا
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






