خوابوں میں جو کھویا تھا قمر ڈھونڈ رہے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, malaysiaخوابوں میں جو کھویا تھا قمر ڈھونڈ رہے ہیں
اور رات کے اس پچھلے پہرڈھونڈ رہے ہیں
اک بار توروٹھے ہوئے خالق کو منا لیں
بیکار دعاؤں میں اثر ڈھونڈ ر ہے ہیں
سورج تری یادوں کا جو اترا ہے زمیں پر
ہم پھر سے سرِ راہ شجر ڈھونڈ رہے ہیں
سن کر یہاں بیتاب ستاروں کی کہانی
"ہم شام کے منظر میں سحر ڈھونڈ رہے ہیں"
بیٹھے ہیں یہ خاموش ، سمندر کو نگل کر
وشمہ جی سرابوں میں گہر ڈھونڈ رہے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






