خوابوں کو میرے پیار کی تعبیر بخش دے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاخوابوں کو میرے پیار کی تعبیر بخش دے
اور دل کو میرے عشق کی جاگیر بخش دے
کب سے خزاں کے زیر ہے یہ میرٰی زندگی
اب موسمِ بہار کو توقیر بخش دے
پھیلی ہوئی ہے آنکھ میں جو شامِ زندگی
اس داستانِ عشق کو تنویر بخش دے
میں تھک گئی ہوں عشق میں آنکھوں سے بولتے
اب تو لبوں کو پیار کی تحریر بخش دے
بارش کی بوند بوند سے لپٹی ہے اس کی یاد
یادوں کے گلستان کی تصویر بخش دے
بھٹکا سکے نہ کوئی بھی منزل سے اے خدا
میرے گماں کو وشمہ کی تقدیر بخش دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






