خواب،آنکھوں کی عبادت ہیں
Poet: .. By: Sumera Ataria, GUDDUخواب،آنکھوں کی عبادت ہیں
گئی رات کے سناٹے میں
اپنے ہونے کا یقیں بھی ہیں
گُل و نغمہ کا اثبات بھی ہیں
خواب کے رنگ ڈھنگ سے بڑھ کر
کبھی پلکوں پہ ستارہ،کبھی آنکھوں میں سحاب
کبھی رُخسار پہ لالہ،کبھی ہونٹوں پہ گلاب
کبھی زخموں کا،کبھی خندۂ گل کا موسم
کبھی تنہائی کا چاند اور کبھی پچھلے پہر کی شبنم
خواب،جو تجزیۂ ذات ہوئے
ان کو جب فرد کی نیندوں کی نفی کر کے لکھا جائے
تو اک قوم کا ناقابل تردید تشخص بن جائیں !
وہ خزاں زاد تھا
اور بنتِ بہار
اُس کی آنکھوں کے لیے خوابِ حیات
اپنے اس خواب کی تقدیس بچانے کے لئے
وہ اماوس کی گھنی راتوں میں
رت جگا کرتا رہا
اورایسے،کہ نیا موسمِ گُل آیاتوسب نے دیکھا
جھلملاتے ہُوئے اِک تارے کی اُنگلی تھامے
چاند پرچم پہ اُتر آیا ہے
سنگریزوں میں گلاب اُگتے ہیں
شہرِ آذر میں اذاں گونجتی ہے
خوشبو آزاد ہے
جنگل کی ہَوا بن کے سفر کرتی ہے
نئی مٹی کا،نئی خواب زمینوں کا سفر
یہ سفر____رقصِ زمیں ،رقصِ ہَوا،رقصِ محبت ہے
جواَب لمحہ موجود تک آ پہنچا ہے
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






