خواب اتنے تھے کہ آنکھوں سے سنبھالے نہ گئے
Poet: SYED ISHTIAQ HUSSAIN KAZMI By: waqas shah, RAWALPINDIخواب اتنے تھے کہ آنکھوں سے سنبھالے نہ گئے
ہو کہ دشمن بھی حسن والے کبھی ٹالے نہ گئے
اک مدت سے تیری یاد آتی بھی نہیں
آج تک دل سے مگر تیرے اجالے نہ گئے
حال دل تجھ کو سناتے تو کیسے جاناں
زباں سے توڑے تو کبھی ہونٹوں کے تالے نہ گئے
بدل گئیں ہیں سب رسمیں زمانے کی مگر
اے دوست تیرے وہ انداز نرالے نہ گئے
چین پاتے تو کہاں کیسے بھلا کس کے بدلے
موت آئی تو اس الفت کے ازالے نہ گئے
دل کی راہوں میں الفت کی زنجیریں دیکھو
جانے والے بھی کبھی اس سے نکالے نہ گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







