خواب ترا
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL , Gujranwalaکل رات میں نے دیکھا خواب ترا
چہرہ لگ رہا تھا مجھکو مہتاب ترا
نہ ہوش رہا مجھکو میں مدہوش ہوگیا
سر چڑھ کے بولا مجھ پے شباب ترا
تُو مسکرائے تو پھول کھلنے لگے
بولے تو لگے سُر مجھکو رباب ترا
کیا ادائیں ہیں صدقے جائوں
ہونٹوں پے تِل بیٹھا ہے جیسے نواب ترا
نیلی جھیل آنکھیں تری ریشمی زلفیں
اُس پے لال آنچل کا نقاب ترا
آنکھوں کو دیکھے تو کہی راز ہیں ان میں نہال
معشومیت دیکھے تو چہرہ ہے کُھلی کتاب ترا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






