خواب لیئے پھرتے ہیں
Poet: Bilal Muard Warsi By: Bilal Murad Warsi, Karachiآنکھوں میں غزالی رباب لئے پھرتے ہیں
بہکانے کو شوخی شباب لئے پھرتے ہیں
پیاسا رکھے یا جی بھر کر سیراب کردے
دل والے تو دل میں کئی خواب لئے پھرتے ہیں
کسی روز جو اچانک ملاقات ہو ان سے
اپنے ہاتھ میں ہمیشہ اک گلاب لئے پھرتے ہیں
دوستی کیسے کریں نہ بھروسہ ہے نہ بھرم
ستمگر چہروں پر کئی نقاب لئے پھرتے ہیں
منا لیں گے ملو گے تو دلیلیں تمہیں دے کر
ہم زمانے کے سب ہی نصاب لئے پھرتے ہیں
چاہتیں آسانیوں سے کب ملا کرتی ہیں
شب و روز سینے میں نئے عذاب لئے پھرتے ہیں
خاصہ مجھ کو وراثت میں یہ ملا ہے بلال
فقیری میں بھی شاہی آب و تاب لئے پھرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






