خواب کو پانی بنا کر لے گیا یے کیا کروں
Poet: Rukhsana Noor By: Shazia Hafeez, Attockخواب کو پانی بنا کر لے گیا یے کیا کروں
وہ میری نیندیں اُڑا کر لے گیا یے کیا کروں
وہ جو میٹھی نیند کی مانند آیا تھا کبھی
میرے سپنے ہی چُرا کر لے گیا ہے کیا کروں
بہتے اشکوں کو تو پلو چاہئے تھا پیار کا
وہ تو دامن بھی چھڑا کر لے گیا یے کیا کروں
میرے سارے خط جلا کر راکھ اُس نے کر دیئے
اپنی تحریریں اٹھا کر لے گیا یے کیا کروں
اب عیاں ہونے لگے ہیں بے کلی کے دائرے
رنگ چہرے کے چرا کر لے گیا یے کیا کروں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







