خواہشوں کا قافلہ چل رہا ہے بڑی دیر سے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaدرد مجھ میں پَل رہا ہے بڑی دیر سے
دل میں کچھ جل رہا ہے بڑی دیر سے
منزلِ مقصود تک پہنچ نہیں پا رہا مگر
خواہشوں کا قافلہ چل رہا ہے بڑی دیر سے
شاید کہ تم نے یاد کیا ہے مجھے آج
سینے میں دل مچل رہا ہے بڑی دیر سے
ختم بھی نہیں کرتا میرا قصہ یہ ہجر
آہستہ آہستہ نگل رہا ہے بڑی دیر سے
بہار آئی ہی نہیں پلٹ کے واپس کبھی
غم کا ہی باد ل رہا ہے بڑی دیر سے
میری زندگی کا نظام درمیان میں تھم گیا
سورج نیا بھی نکل رہا ہے بڑی دیر سے
بیان ہوتا ہی نہیں درد دو شعروں میں
نہال لکھ اِک غزل رہا ہے بڑی دیر سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






