خواہشِ پرواز نے اُونچا اڑایا
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, wales ukخواہشِ پرواز نے اُونچا اڑایا ہے مجھے
آسماں پر شوق کا طوفان لایا ہے مجھے
امتحاں سے کم نہیں ہیں دید کے یہ مرحلے
اب مقامِ طور پر جب عش لایا ہے مجھے
خواب سا وہ بن گیا رنگِ سخن میں ڈھل گیا
موسمِ دل نے عجب منظر دکھایا ہے مجھے
خود کو ہم نے آزمایا دُور رہ کر اصل میں
یہ نہ کہنا تم کہ اُس نے آزمایا ہے مجھے
پیار اُس کا چھا گیا ابرِ بہاراں کی طرح
شمع غم کی دھوپ سے اس نے بچایا ہے مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






