خواہش
Poet: امجد اسلام امجد By: jawad ahmed, Karachiزندگی کے میلے مِیں خواہشوں کے ریلے مِیں
تُم سے کیا کہیں جاناں اِسقدر جھمیلے مِیں
وقت کی روانی ہے بخت کی گرانی ہے
سخت بے زمینی ہے سخت لامکانی ہے
ہجر کے سمندر میں تخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہے
تُم کو جو سُنانی ہے
بات گو ذرا سی ہے
بات عمر بھر کی ہے
عمر بھر کی باتیں کب دو گھڑی مِیں ہوتی ہیں
درد کے سمندر مِیں انگِنت جزیرے ہیں بے شمار موتی ہیں
آنکھ کے درئیچے پر تُم نے جو سجایا تھا
بات اُس دِیئے کی ہی ' بات اُس گِلے کی ہے
جو لہو کی خلوت میں چور بن کر آتا ہے
لفظ کی فصیلوں پر ٹُوٹ ٹُوٹ جاتا ہںے
زندگی سے لمبی ہے بات رَتجگے کی ہے
راستے مِیں کیسے ہو بات تخلیئے کی ہے
تخلیئے کی باتوں مِیں گُفتگو اِضافی ہے
پیار کرنے والوں کو اِک نِگاہ کافی ہے
ہو سکے تو سُن جاؤ ایک دِن اکیلے مِیں
تُم سے کیا کہیں جاناں اِسقدر جھمیلے مِیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






