خوب روشن ہے عکسِ پا میرا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاخوب روشن ہے عکسِ پا میرا
میرا ماضی ہے آئینہ میرا
رات آئی نہ آندھیوں میں کمی
پھر بھی جلتا رہا دیا میرا
کل بھی مشکل تھی زندگی میری
اب بھی مشکل ہے راستہ میرا
برف پگھلے گی دشتِ فرقت میں
عکس سورج سا اک بنا میرا
میری آنکھوں میں بیٹھ کر اک دن
جام ہونٹوں سے اک لگا میرا
خود ہی دیکھے گی ایک دن دنیا
پیار آنکھوں میں بس سجا میرا
کون ایسے میں ساتھ دے وشمہ
مجھ سے سایہ بھی ہے جدا میرا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






