خودی کی حالتوں پہ کوئی نگران نہ ملا
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiخودی کی حالتوں پہ کوئی نگران نہ ملا
جیسے اپنی زندگی کو بھی کوئی عنوان نہ ملا
جو بھی راہ دیکھی بس چلتا ہے گیا
منزل ہی پوچھ لیتا مگر دھنوان نہ ملا
میں اِن فضاؤں میں بدر ہوکے رہہ گیا
اور تیرے آنچل کو کوئی بادباں نہ ملا
یادوں میں اُن کی آہٹیں بھی آجاتی تھی
اِن سلگتے خوابوں کو کوئی دربان نہ ملا
اس جہاں کی ہر تحکیم سے مجھے انکار تھا
اور تیرے رُخسار سے بھی کوئی فرمان نہ ملا
وہ ہم سے بڑا پردہ رکھتے تھے سنتوشؔ
کہ میرا ہی مجھ میں کوئی بِدوان نہ ملا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






