خود سے بہت ہیں دیکھے مگر کوئی تم سا نہیں ہے
Poet: Asif shaaki By: Asif Shaaki, Hyderabadہوئی مدتیں تمہیں، میں نے دیکھا نہیں ہے
خود سے بہت ہیں دیکھے مگر کوئی تم سا نہیں ہے
روح کی تقدس اور وجود کی نفاست میں وہ
یکجا ہے ایسا کہ کوئی دوجا نہیں ہے
ہے لا جواب سے زندگی میرے ہر اک سوال پہ
مجھ جتنا تو کوئی اس کی کسوٹی پر اُلجھا نہیں ہے
ہیں جس کے خیالات میں گم شب و روز میرے
اس نے کبھی پلٹ کر بھی میرا پوچھا نہیں ہے
تمہیں ادراک ہوا ہے کبھی اس بات کا کہ
شاکی کا دم بھرنے والے ہیں بہت وہ بھی تنہا نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






