خود پہ نہ مر مٹو تو پھر کہنا !
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillآئینہ سامنے تو لا پہلے
آنکھ سے آنکھ تو ملا پہلے
خود پہ نہ مر مٹو تو پھر کہنا
میرے دعوے کو آزما پہلے
ابھی تعبیر کی تمنا نہیں
خواب کا جھولنا جھلا پہلے
موت کی بات چلو کر لینا
مجھے جینا ذرا سکھا پہلے
پھر چلے جانا اگر جا پاؤ
میرے دیوانے دل میں آ پہلے
دید کی رفعتیں بھی پاؤ گے
نفس سے ہو ذرا رہا پہلے
یوں بھی ہوتا ہے راہ ہستی میں
جرم ہے بعد میں سزا پہلے
یوں نہ تاریکیوں کو للکارو
تھام لو ہاتھ میں دیا پہلے
یہ بتاؤ کہ کیا کریں اسکا
وہ جو کاتب نے لکھ دیا پہلے
آئیں گی ایکدن بہاریں بھی
آس کی سیج تو سجا پہلے
دیکھنا شوق سے میرا مٹنا
رخ سے چلمن ذرا ہٹا پہلے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






