خود ہی سلگھاتے ہو چنگاڑی پھر خود ہی بجھا دیتے ہو
Poet: Hooba By: Hooba, attockخود ہی سلگھاتے ہو چنگاڑی پھر خود ہی بجھا دیتے ہو
ابھی بجھنے بھی نہیں پاتی آگ پھر سے لگا دیتے ہو
پیار ہے تمہیں غیروں سے، غیروں سے ہے پیار تمہیں
پیار کرتے ہو غیروں سے اور اپنوں کو دغا دیتے ہو
ہو رکھتے یاد اوروں کو، اوروں کو یاد رکھتے ہو
یاد رکھتے ہو اوروں کو اور اپنوں کو بھلا دیتے ہو
ہم ترستے ہیں اک دیدار کو، اک دیدار کو ترستے ہیں ہم
ہمیں تڑپاتے ہو دیدار کو ہائے کتنا جینے کا مزا دیتے ہو
رکھتے ہو خوش رقیبوں کو، رقیبوں کو خوش رکھتے ہو
نکلتے ہو محفل سے رقیبوں کی دل اپنوں کا جلا دیتے ہو
رکھتے ہو دور دور ہم کو، ہم کو دور دور رکھتے ہو
دور کرتے ہو پہلے خود ہی پھر خود ہی بلا دیتے ہو
جلاتے ہو چراغ محبت کے، محبت کے چراغ جلاتے ہو
جلاتے ہو چراغ محبت خود ہی پھر خود ہی ہوا دیتے ہو
مجھے کرتے پھرتے ہو بدنام، بدنام کرتے پھرتے ہو مجھے
مجھے کرتے ہو بدنام زمانے میں یہ محبت کی جزا دیتے ہو
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






