خوشبو تیری جب احساس کو مہکاتی ہے
Poet: Mubeen By: Mubeen, Islamabadخوشبو تیری جب احساس کو مہکاتی ہے
محفل دل میں رونق سی آجاتی ہے
دن تو عید کا ہے خوشی کا مگر
شب وصال عید بن جاتی ہے
حسن و عشق میں کچھ تو ہے مشترک
اک آرزو باہم پائی جاتی ہے
یہ لب کشائی اور ٹوٹنا سکوت شب کا
نغمگی سی فضا میں گھل جاتی ہے
زندگی ادھوری مکمل ہونے لگتی ہے
اک آرزو کی تکمیل ہوئی جاتی ہے
ستارے ڈوبے اور رات نے پہلو بدلا
زندگی ٹوٹے خواب کی تعبیر ہوئی جاتی ہے
شمع گل ہوئی جل چکے پروانے سب
راکھ اڑانے کو ہوا بیتاب ہوئی جاتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






