خوشبو کے ساتھ اُسکا سفر تھا یہیں تلک
Poet: Azharm By: Azharm, Dohaخوشبو کے ساتھ اُسکا سفر تھا یہیں تلک
مرجھا گیا ہے پھول اثر تھا یہیں تلک
آگے حساب رُت ہے، جیے کس طرح سے ہم
ویسے بھی پوچھ گچھ سے مفر تھا یہیں تلک
اب آ گیا ہوں دیس میں غیروں کی کیا کروں
اپنی حدود اپنا نگر تھا یہیں تلک
اتنا گلہ ہے ترک تعلُق کی بات پر
پہلے نہیں بتایا، اگر تھا یہیں تلک
اب تجھ کو زیر ہونا پڑے گا یہ سوچ لے
اظہر قوی ہے تُجھ سے، زبر تھا یہیں تلک
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






