خوش رہو
Poet: Fazil Jamili By: Aini, Karachiمجھے اداس کر گئے ہو، خوش رہو
میرے مزاج پر گئے ہو، خوش رہو
مرے لیے نہ رک سکے تو کیا ہوا
جہاں کہیں ٹھہر گئے ہو، خوش رہو
خوشی ہوئی ہے آج تم کو دیکھ کر
بہت نکھر سنور گئے ہو، خوش رہو
اداس ہو کسی کی بے وفائی پر
وفا کہیں تو کر گئے ہو، خوش رہو
گلی میں اور لوگ بھی تھے آشنا
ہمیں سلام کر گئے ہو، خوش رہو
تمہیں تو میری دوستی پہ ناز تھا
اسی سے اب مکر گئے ہو، خوش رہو
کسی کی زندگی بنو کہ بندگی
میرے لیے تو مر گئے ہو، خوش رہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







