خون جگر سے جواشعارمیں لکھتا ہوں
Poet: M.Asghar Mirpuri By: M.Asghar Mirpuri, Birminghamخون جگر سے جو اشعار میں لکھتا ہوں
صرف تیری خاطر اے یار میں لکھتا ہوں
کچھ شعر تو اتنے پیارے ہوتے ہیں
جنہیں بار بار میں لکھتا ہوں
کئی بار کچھ لکھنےکاارادہ نہیں ہوتا
تیری چاہ میں ہوکربےقرارمیں لکھتاہوں
میں ان میں ہرطرح کہ رنگ بھرتاہوں
کیاکہوں کیسےیہ شاہکارمیں لکھتاہوں
اصغرکی طرح یہ سب بھی دکھی ہیں
اپنی شاعری کہ جوکردارمیں لکھتاہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






