درد اے وچھورے والا ساڈۓ پلۓ پیں گیا
Poet: Kh Murad malik By: Kh Murad Malik , Manchesterدرد اے وچھورے والا ساڈۓ پلۓ پیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
دوکھ اے نصیباں والا ساڈئ جولی پیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
دکھ اے عزیزں والا دل اوتۓ سہۓ گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
مجرم آپ سانوں مجرم کہہ گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
تان تے ملام لاکھاں چپ کر سہہ گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
سوکھ سی جو پلۓ میرے دور کوہی لۓ گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
جگڑہ اے عمراں دا کانوں جولی پیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
بوتا سی میں بولدہ چپ کر بیھ گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
خون میرا پیندا غم جند میری لیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
بس ہون دکھ سنہا شوک نیہوں ریں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
نکتہ اے اوف والا دل اوتے ریں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
شکوہ نہ کیتا آساں رولا کانوں پیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
کریۓ مراد کئ سوچاں وچ پیں گیا
چنگۓ ہاں یا مندۓ ہاں نہ کہن جوگا ریں گیا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






